احمد آباد30مئی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)پنچایتی راج میں پنچ اور سرپنچوں کے عہدے محفوظ ہونے سے دلت برادری کو نمائندگی کا موقع تو مل رہا ہے لیکن اصل میں اعلیٰ ذاتوں کے غلبے کے آگے دلت کمیونٹی کے نمائندے کٹھ پتلی بنے رہنے کے لئے مجبور ہیں،اگر وہ کسی دباؤ کو قبول نہ کریں تو ان کو عہدے سے ہٹانے کے لئے فوری طور پر سازشیں کردی جاتی ہیں۔اس طرح کے حالات کی شکایات پر حکومت خاموش رہتی ہے۔گجرات میں دلت نمائندوں کے درد کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں۔چندوبھائی مکوانا گجرات کے نورتل گاؤں کے سرپنچ تھے،وہ سرپنچ اس لئے بنے کیونکہ ان کے گرام پنچایت میں سرپنچ کا عہدہ اس بارایس سی کے لیے مخصوص تھا۔اس سال جنوری میں پتنگ بازی کے دن کچھ لوگوں نے ان کے گھر پر پتھر بازی کی۔واقعہ سے دلبرداشتہ چندبھائی نے کچھ لوگوں کے خلاف مقامی تھانے میں ایف آئی آر لکھوائی،بات آگے بڑھی تو چندوبھائی پر پنچایت کے دیگر ارکان نے ایف آئی آر واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا۔جب انہوں نے درخواست واپس نہیں لی تو ان کے خلاف عدم اعتمادکی تجویز لائی گئی۔انہوں نے آخر کار تھک ہار کرعدم اعتماد تجویز پر ووٹنگ سے پہلے ہی سرپنچ عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ایسا ہی معاملہ ہیبوا گاؤں کے سنجے پرمار کا ہے۔یہاں پر بھی سرپنچ کا عہدہ ایس اسی کے لیے مخصوص ہونے کی وجہ سے ایک کمزور سرپنچ بنا۔ان کے ساتھ اعلیٰ ذات برادری کی مخالفت رہی، اس لئے ان کے خلاف عدم اعتمادکی تجویز لاکر انہیں ہٹا دیا گیا۔ان کی جگہ پر دوسرے دلت سرپنچ سنجے پرمار بنے تو انہیں بھی مسلسل ڈرایا-دھمکایا جاتا رہا ہے، ایسا سنجے کا الزام ہے۔